بنگلورو،،15/جنوری(ایس او نیوز) سی اے اے قانون صرف مسلم مخالف نہیں ہے بلکہ یہ غریب مخالف قانون بھی ہے اس لئے ہم سب کو مل کر اس قانون کی مخالفت کرنی چاہئے اور متحد ہو کر مسلسل طور پر اس معاملہ میں مظاہرے جاری رکھنا چاہئے۔مرکزی حکومت غریبوں کی اسکولی فیس میں اضافہ کرکے این آر سی کے لئے رقم اکٹھاکر رہی ہے۔ یہ باتیں سماجی کارکن بھویا نرسمہا مورتی نے ضلع مسلم فورم کی زیر نگرانی شہر کے عید گاہ میدان میں سی اے اے کے خلاف خواتین کے احتجاجی مظاہرہ کے دوران کہیں۔
انہوں نے کہا کہ آج ملک میں 90فیصد لوگوں کے پاس آدھارکر کارڈ ہے جسے شہریت ثابت کرنے کے لئے نا کافی بتایا جا رہا ہے۔ آسام میں این آر سی لاکر حکومت ناکام ہوچکی ہے، صرف ایک ریاست میں این آر سی کے لئے 3ہزار کروڑ روپے خرچ ہوئے، سوچنے کی بات ہے کہ حکومت سارے ملک میں این آر سی کے لئے ہزاروں کروڑ وں روپئے کہاں سے لائے گی۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت نے نوٹ بندی کرکے کالا دھن واپس لانے کا جو وعدہ کیا تھا وہ بھی ناکام ہوگیا ہے۔اب سی اے اے اور این آر سی کے نام پر ملک کے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے ہمیں چاہئے کہ متحد ہوکر کوئی بھی دستاویز پیش نہیں کرنی ہے۔ہمارے پاس آدھار کارڈ۔ ووٹر شناختی کارڈ۔ پاسپورٹ، ڈرائیونگ لائسنس موجود ہونے کے باوجود بھی ہماری شہریت پر گمان کیا جارہا ہے۔ اس حکومت کا مقصد اس ملک کو ہندو راشٹر بنانا ہے۔ ہمارے آباو اجداد اس ملک میں پیدا ہوکر یہیں دفن بھی ہوئے ہیں۔ اس لئے ہمیں شہریت کا ثبوت دینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہر ایک گھر کی خواتین کا تعلیم یافتہ ہونے کی ضرورت ہے جس سے اس سماج میں تبدیلی لائی جاسکتی ہے۔ خواتین کو بھی اب بیدا ر ہونا ضروری ہے۔ ہماری آنے والی نسلوں کی خاطر ہم سب کو متحد ہوکر اس قانون کی مخالفت کرنی چاہئے۔ اس موقع پرخطاب کرتے ہوئے سی آئی ٹی یو لیڈر گیتا نے کہاکہ ہم اس ملک کے شہری تھے،شہری ہیں اور رہیں گے۔ہمیں اس کا ثبوت کسی کو دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ سماجی کارکن کویتا ریڈی نے کہا کہ سی اے اے قانون آئین مخالف ہے جسکی پر زور مخالفت ہونی چاہئے۔ اس طرح کا قانون لاکر مرکزی حکومت ملک کے عوام پر مزید بوجھ ڈالنا چاہتی ہے، اس سے قبل ملک کے عوام نوٹ بندی کا بوجھ جھیل چکے ہیں اور حکومت عوام کو جھوٹا بھرسہ دلا رہی ہے کہ سی اے اے سے کسی بھی طرح کی پریشانی نہیں ہوگئی، حکومت جھو ٹ کہہ رہی ہے عوام کو اس تعلق سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سی اے اے قانون آئین مخالف ہے یہ لوگ امبیڈکر کے تشکیل کردہ دستور ہند کو ختم کرنے چلیں ہیں دستور ہند کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی جارہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سی اے اے اور این آر سی ملک کو ایک الگ موڑ کی طرف لے جانے والے قانون ہیں جسے مرکزی حکومت ملک کے عوام پر تھوپنا چاہتی ہے، جب یہ لوگ آپ کے گھروں پر دستاویزات یہ معلومات اکٹھاکرنے کے لئے دستک دیں تو ہر گز ان کا تعاون نہ کریں۔انہوں نے کہا کہ سب سے پہلے ان لوگوں کو اپنی شہریت ثابت کرنی چاہے جو اس کا سوال کر رہے ہیں۔ آج ملک کی جی ڈی پی،پڑوسی ممالک سے کم ہوچکی ہے۔مگر ان لوگوں کو اس کی کوئی فکر نہیں ہے۔عوامی مخالف پالیسیوں کو لانے والوں کی پر زور مخالفت ہونی چاہیے۔این ڈبلیو ایف کی ریاستی نائب صدر شبانہ شریف نے کہا کہ ہمارا دستور تمام مذا ہب کو ایک دھاگے میں پروتا ہے اور ہمارا دستور اعلیٰ ہے۔آزادی کے بعد بہت سی سیاسی پارٹیاں آئیں مگر مذہب کی بناد پر بھید بھاؤ کبھی نہیں کیاگیا۔ مگران چندسالوں میں ایک پارٹی آئی ہے جس کے سبب ملک کے ہر مذہب کے لوگ نہایت پریشان ہے۔یہ حکومت مذ ہب اورزبان کے نام بانٹنے پر تلی ہے اورملک کے دستور کے ساتھ کھلواڑ کر رہی ہے۔ ہندو مسلمان میں تفریق ڈالنے کا کام کر رہی ہے۔ ہندوستان میں مسلمانوں نے 800سال حکومت کی تلوار کی نوک پر نہیں بلکہ دلوں پر راج کرکے حکومت کی ہے۔
ضلع وقف کمیٹی کے چیرمین بی یس رفیع اللہ نے اس موقع پر کہا کہ سی اے اے کے بارے میں خواتین میں آگاہی لانا ضروری ہے اس لئے آج مسلم فورم کی جانب سے پُر امن احتجاج منعقد کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج وقت کی ضرورت ہے کہ ہم تمام متحد ہوجائیں اتحاد کا مظاہرہ کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان کثرت میں وحدت کا ثبوت ہر ہمیشہ دیتا آیا ہے ایک دوسرے کے تہواروں میں شریک ہوکر خوشیا ں بانٹنے کا رواج ملک میں جاری ہے۔ مسلمان ملک سے محبت کرتے آئے ہیں اور کرتے رہیں گے، ہندوستان ہمیں بہت ہی پیارا ہے ملک کے لئے کسی بھی طرح کی قربانی دینے کے لئے آج بھی مسلمان پیچھے نہیں ہٹنے والے ہیں۔ اس موقع پر ضلع مسلم فورم کے ذمہ دار جاوید پاشاہ، صادق پاشاہ، یس یم رفیق کے علاوہ شہر و تعلقہ بھر سے کثیر تعداد میں خواتین شریک رہیں۔